20 اگست 2026 - 17:46
پہلی قسط | جہاں دشمن سے دوستی کرنے کی بھاری قیمت چکانا پڑتی ہے

سورۂ ممتحنہ کی ابتدائی آیات اس مقام کی گفتگو کرتی ہیں جہاں محبت اور حق سے وفاداری کے درمیان حد کو واضح کرنا ضروری ہو جاتا ہے، جہاں دشمن پر اعتماد انسان کو ایمان کے راستے سے دور کر سکتا ہے اور حتیٰ کہ انتہائی قریبی رشتے اور وابستگیاں بھی حقیقت کی جگہ نہیں لے سکتیں۔

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ سورۂ ممتحنہ کی ابتدائی آیات، قرآن اہل ایمان کی زندگی کے نہایت حسین پہلوؤں میں سے ایک پہلو پر روشنی ڈالتا ہے، جہاں جذباتی تعلق، رشتہ داری اور ذاتی مفادات ممکن ہے کہ انسان کو حقیقت اور ایمانی معاشرے کے مقابل کھڑا کر دیں۔

سورہ ممتحنہ کی آیات 1 تا 5، "ولایت" کے تصور اور دشمنوں سے حد بندی کو مرکزی حیثیت دے کر، مؤمن سے مطالبہ کرتی ہیں کہ وہ ذاتی محبتوں اور محاذِ حق سے وفاداری میں فرق کر دے۔ علامہ سید محمد حسین طباطبائی تفسیر المیزان میں ایمان، حق سے دشمنی اور خدا پر توکل کی ضرورت کے ساتھ، مربوط انداز میں، ان آیات کا تجزیہ کرتے ہیں۔

جب محبت وفاداری کی جگہ لے لیتی ہے

پہلی آیت "يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا" (اے ایمان لانے والو) سے شروع ہوتی ہے، یعنی گفتگو کا براہِ راست خطاب مؤمنین سے ہے۔ پھر حکم آتا ہے کہ "لَا تَتَّخِذُوا عَدُوِّي وَعَدُوَّكُمْ أَوْلِيَاءَ" میرے دشمن اور اپنے دشمن کو اپنا ولی اور سہارا نہ بناؤ۔

پہلی قسط | جہاں دشمن سے دوستی کرنے کی بھاری قیمت چکانا پڑتی ہے

المیزان کی نظر میں، یہ معاملہ محض ایک عام سماجی رشتہ نہیں، مسئلہ "اتخاذ ولی" (ولی اختیار کرنے) کا ہے یعنی ایسا بندھن اور اعتماد جو ہم آہنگی اور پشت پناہی کا باعث بن سکتا ہے۔ قرآن فوراً اس رویئے کی مثال بھی پیش کرتا ہے "تُلْقُونَ إِلَيْهِمْ بِالْمَوَدَّةِ"؛ [اس طرح سے کہ] تم ان کی طرف محبت اور دوستی کا پیغام بھیجتے ہو۔

اہم نکتہ یہ ہے کہ قرآن اس ممانعت کی علت [اور وجہ] بھی واضح کرتا ہے "وَقَدْ كَفَرُوا بِمَا جَاءَكُمْ مِنَ الْحَقِّ" یعنی مخالف فریق کوئی معمولی مخالف نہیں ہے، وہ اسی حق کے مقابل کھڑا ہے جس پر مؤمن ایمان لایا ہے۔ لہٰذا مسئلہ مؤمن کی 'زندگی سے محبت' کو مٹا دینا نہیں؛ بلکہ اس قسم کی محبت کو روکنا ہے جو اعتقادی حدود اور ایمانی معاشرے کے مفادات کو ختم کر دے۔

دشمن، جس کا جھگڑا ایمان سے ہے

آیت مزید کہتی ہے کہ وہ لوگ "يُخْرِجُونَ الرَّسُولَ وَإِيَّاكُمْ أَنْ تُؤْمِنُوا بِاللَّهِ رَبِّكُمْ"؛ رسولؐ اور مؤمنین کو محض اس وجہ سے دباؤ میں رکھتے ہیں کہ وہ اللہ رب العالمین پر ایمان لائے ہیں۔

یہ حصہ ایک اہم معیار فراہم کرتا ہے کہ مؤمنین سے ان کی دشمنی کا سبب ان [مؤمنین] کا ایمان ہے۔ اسی لئے قرآن نہیں چاہتا کہ مؤمن دوست اور دشمن کی پہچان میں محض ذاتی تعلقات، جذبات یا قلیل مدتی مفادات کو مد نظر رکھے۔

پھر آیت ایک کھلے تضاد کی طرف اشارہ کرتی ہے: اگر تم خدا کی راہ میں جہاد اور اس کی خوشنودی، کے طلب گار ہو کر اپنے گھر اور زندگی سے نکلے ہو تو تم کیسے چھپ کر اسی گروہ کو محبت کا پیغام بھیج سکتے ہو جو تمہارے ایمان سے دشمنی رکھتا ہے؟ "إِنْ كُنْتُمْ خَرَجْتُمْ جِهَادًا فِي سَبِيلِي وَابْتِغَاءَ مَرْضَاتِي"۔

جو ہم چھپاتے ہیں، وہ خدا سے چھپا نہیں

اس کے بعد بہت غور طلب تعبیر سامنے آتی ہے "وَأَنَا أَعْلَمُ بِمَا أَخْفَيْتُمْ وَمَا أَعْلَنْتُمْ"، اللہ وہ سب کچھ جانتا ہے جو تم چھپاتے ہو اور جو تم ظاہر کرتے ہو۔

اس آیت کی منطق کے مطابق، مسئلہ صرف ظاہری عمل نہیں، بلکہ محرک اور نیت بھی اہمیت رکھتی ہے۔ انسان مختلف عذر و بہانوں سے اپنے عمل کو چھپا سکتا ہے، مگر اپنی نیت کو اللہ سے مخفی نہیں رکھ سکتا۔ اسی لئے آیت کے آخر میں تنبیہ دی جاتی ہے کہ "فَقَدْ ضَلَّ سَوَاءَ السَّبِيلِ" کہ جو ایسا کرے وہ یقیناً سیدھے راستے سے بھٹک گیا۔

دشمن اگر قوت پا لے تو کیا کرتا ہے؟

دوسری آیت اس دشمن کی حقیقت کی مزید روشن تصویر پیش کرتی ہے "إِنْ يَثْقَفُوكُمْ يَكُونُوا لَكُمْ أَعْدَاءً وَيَبْسُطُوا إِلَيْكُمْ أَيْدِيَهُمْ وَأَلْسِنَتَهُمْ بِالسُّوءِ"۔

یعنی اگر وہ تم پر قابو پا لیں تو نہ صرف اپنی دشمنی ترک نہیں کریں گے بلکہ اپنے ہاتھ اور زبان کو تمہیں نقصان پہنچانے کے لئے بروئے کار لائیں گے اور یہ تمنا کریں گے کہ مؤمن اپنے ایمان سے پھر جائیں "وَوَدُّوا لَوْ تَكْفُرُونَ"، [وہ بہت پسند کرتے ہیں کہ تم کافر ہو جاؤ]۔

تجزیاتی طور پر، یہ آیت ایک حقیقت پسندانہ معیار فراہم کرتی ہے: دشمن کی پہچان اس کے دعوؤں یا عارضی جذبات پر نہیں، بلکہ اس کے عمل اور ہدف کو دیکھ کر ہونی چاہئے۔ جس کی آخری تمنا انسان کا ایمان سلب کرنا ہو، وہ محض ظاہری دوستانہ تعلق قائم کرنے کی وجہ سے "ولی" کے درجے پر کھڑا نہیں ہو سکتا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

بقلم: مہدی احمد

ترجمہ: ابو فروہ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha